سعودی عرب میں ملازمت کا نیا نظام، نیا قانون نجی ڈرائیور، چوکیدار اور مزارع پر لاگو نہیں ہوگا

Share with your love one
Saudi Arabia Launches labor reforms for expatriates working in private sector (11 Nov 2020)

سعودی وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود نے آجر اور اجیر کے درمیان ملازمت کے ماحول کو بہتر بنانے والے نئے نظام سے متعلق اہم سوالات سے متعلق جواب دیے ہیں۔ نیا نظام 15 مارچ 2021 سے نافذ ہوگا۔
الوطن اخبار کے مطابق ملازمت کا نیا نظام سہ نکاتی ہے اور اس کے چار بڑے اہداف ہیں۔ اس میں آجر اور اجیر کے حقوق کا تحفظ، لیبر مارکیٹ میں لچکدار ماحول پیدا کرنا، لیبر مارکیٹ کو مزید پر کشش بنانا اور آجیر اور اجیر کے تعلقات کے سلسلے میں ملازمت کے معاہدے کی اہمیت کو منوانا اور اسے مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔

ملازمت کا نیا نظام:

سعودی عرب قومی تبدیلی پروگرام کے تحت متعدد سکیمیں نافذ کر رہا ہے۔ یہ ان میں سے ایک ہے۔ ملازمت کا نیا نظام وزارت داخلہ اور نیشنل انفارمیشن سینٹر کی شراکت سے تیار کیا گیا ہے۔ متعدد سرکاری اداروں نے اس کی تیاری میں کردار ادا کیا ہے۔
نجی اداروں کے مالکان اور سعودی ایوان ہائے صنعت وتجارت کونسل کے حکام کی مشاورت اورملازمت کے حوالے عالمی رجحان پر ریسرچ نتائج کو سامنے رکھ کر نیا نظام بنایا گیا ہے۔
وزارت افراد ی قوت لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو مد نظر رکھ کر نئے قوانین و ضوابط تیار کر رہی ہے۔ محنتانوں کا تحفظ، ملازمت کے معاہدوں کی توثیق اور پیشہ وارانہ صحت وسلامتی کا فروغ اسی کا حصہ ہے۔ یہ لیبر مارکیٹ کو جدید بنانے کی طرف قدم ہے۔

نئے نظام کے اہداف:

نئے نظام میں آجر اور اجیر کے حقوق کا تحفظ، لییر مارکیٹ کو زیادہ لچکدار، موثر اور مسابقتی ماحول سے ہم آہنگ کرنا، لیبر مارکیٹ کو پرکشش بنانا اور سعودی قانون محنت نیز بین الاقوامی روایات مں ہم آہنگی پیدا کرنا، ملازمت کے معاہدوں کو معتبر بنانا شامل ہے۔
ملازمت کا نیا نظام نجی اداروں کے تمام ملا زمین پر لاگو ہوگا۔
نئے نظام سے وژن 2030 کے اہداف سے بھی تعلق ہے۔ نیا نظام لیبر مارکیٹ کے ارتقا، پیداوار بڑھانے اور لکچدار نظام کے فروغ میں کردار ادا کرنے گا۔ وژن2030 کے تحت سعودائزیشن کا تناسب بڑھے گا اور روزگار کے نئے چینلز کھلیں گے۔
اداروں میں زیادہ با صلاحیت افراد کے تقرر کا رجحان فروغ پائے گا۔

نئے نظام سے تارکین کو فائدہ:

نجی اداروں کے غیر ملکی کارکنان کو اداروں کی تبدیلی میں آزادی حاصل ہوگی۔ خروج وعودہ اور فائنل ایگزٹ کے سلسلے میں با اختیار ہو جائیں گے۔
ملازمت کی تبدیلی کی سہولت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی عیر ملکی کارکن کی ملازمت کا معاہدہ مکمل ہوجائے گا تو ایسی صورت میں عیر ملکی کارکن اپنے سابق آجر کی منظوری کے بغیر کسی اور ادارے میں ملازمت کر سکے گا۔
ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں منتقلی کا طریقہ کار متعین کیا جائے گا مثلا سابق آجر کو اطلاع دینا وغیرہ۔
ملازمت کے معاہدے کی معیاد ختم ہونے سے قبل بھی غیر ملکی کسی کے ہاں ملازمت کر سکتا ہے۔ غیر ملکی ملازم کو اس کا اختیار ہے تاہم اسے نوے دن قبل اسے اپنے ارادے سے آگاہ کرنا ہوگا اور اگر ملازمت کے معاہدے میں قانون محنت کے دائرے میں کوئی پابند ی تحریر ہوگی تو اس کا احترام کرنا ہوگا کیونکہ کسی شق کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں مق ر پیلنٹی کا متحمل ہوگا۔

نئے نظام سے تارکین کو فائدہ:

غیر ملکیوں کے لئے ملازمت کی تبدیلی:

غیر ملکی معاہدے کی میعاد مکمل کرنے پر ملازمت تبدیل کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
اگر ملازمت کا پہلا معاہدہ مکمل کرکے دوسرا یا تیسرا معاہدہ شروع ہو گیا ہو کیا ایسی صورت میں غیر ملکی کارکن ملازمت تبدیل کرسکےگا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ غیرملکی ملازمت تبدیل کرسکتا ہے بشرطیکہ نئی ملازمت کی شرائط پوری کر رہا ہو اور نیا آجر رضا مند ہو۔
اس کے لیے نوے روز پہلے مطلع کرنا ہوگا اور ملازمت کے معاہدے میں مقرر پیلنٹی بھرنا ہوگی۔

طریقہ کار:

نئے ادارے میں ملازمت کی کارروائی کے طریقہ کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نیا ادارہ وزارت افرادی قوت کے ماتحت قوی پلیٹ فارم کے ذریعے ملازمت کی تبدیلی کی درخواست کرے گا۔ متعلقہ ادارے کا خط غیر ملکی کارکن کو بھیجا جائے گا۔ اس کا جواب وہ دے گا پھر باقی کارروائی پلیٹ فارم کے ذریعے ہوگی۔
آخر میں تمام فریقوں کواس سے مطلع کردیا جائے گا۔
اس سوال پر کہ معاہدہ ختم کرنے پر پیلنٹی کی شرط آجر پر لاگو ہو گی یا اجیر پر وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق ملازمت کے مصدقہ معاہدے میں مذکور شرط سے ہوگا جو فریق وہی ملازمت کا معاہدے ختم کرے گا اور اس پر پیلنٹی آئے گی۔

خروج وعودہ پر جانے کے لیے کفیل کی ضرورت نہیں:

سعودی وزارت برائے ہیومن ریسورسز نجی شعبے میں آجر و اجیر کے درمیان ملازمت کے معاہدوں میں بہتری لانے کے لیے تین نئے فارمولے متعارف کرانے جا رہی ہے۔ 
وزارت نے کہا ہے کہ نئے فارمولوں میں غیر ملکی کارکن کو معاہدہ ختم ہونے پر کمپنی کی منظوری لیے بغیر دوسری کمپنی میں کام کرنے کا اختیار ہوگا۔
اس کے علاوہ غیر ملکی کارکن کو خروج وعودہ اور خروج نہائی میں آزادی دی جائے گی، اسے صرف کمپنی کو ابشر کے ذریعہ اطلاع دینی ہوگی۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’آجر و اجیر کے درمیان ملازمت کے معاہدے میں بہتری لانے کے یہ فارمولے ان متعدد اصلاحات میں سے ہیں جو قومی تبدیلی پروگرام کے تحت ہو رہے ہیں۔‘
وزارت کے مطابق مذکورہ تینوں فارمولے مارچ 2021 میں نافذ العمل ہوں گے۔
وزارت نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے فارمولے کے مطابق اجیر کو یہ حق دیا جائے گا کہ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ کسی دوسری کمپنی کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ کر لے، اسے پہلی کمپنی سے ایسا کرنے کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اسی طرح خروج وعودہ کے نئے فارمولے کے مطابق غیر ملکی کارکن کو کمپنی سے ایگزٹ ری انٹری ویزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوگی، اسے سفر پر جانے کے لیے آن لائن درخواست جمع کرانا ہوگی جبکہ کمپنی کو صرف اطلاع دینی ہوگی۔
جبکہ خروج نہائی یعنی فائنل ایگزٹ پر جانے کے خواہشمند کارکن کو واپس جانے کے لیے کمپنی سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی، وہ جب چاہے معاہدہ ختم کرکے واپس جاسکتا ہے تاہم اسے معاہدہ ختم کرنے کی شرائط پوری کرنی ہوگی۔
وزارت نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا تینوں فارمولوں پر عملدرآمد ابشر سسٹم کے ذریعہ آن لائن ہوگا۔

خروج وعودہ پر جانے کے لیے کفیل کی ضرورت نہیں:

نیا قانون’نجی ڈرائیور، چوکیدار اور مزارع پر لاگو نہیں ہوگا:

سعودی وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود نے کہا ہے کہ ’ملازمت کا نیا قانون مزارع، نجی ڈرائیور اور گھریلو چوکیدار پرلاگو نہیں ہو گا‘۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ’ ان شعبوں میں آنے والے دیگر افراد بھی نئے قانون میں شامل نہیں ہوں گے‘۔
سبق ویب کے مطابق وزارت افرادی قوت نے کہا کہ ’ملازمت کے نئے قانون کے دائرے میں نجی اداروں کے تمام ملازمین شامل ہوں گے‘۔
یاد رہے کہ وزارت نے بدھ کو ملازمت کے نئے معاہدے سے نئے معاہدے سے متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ملکی ملازم اپنے آجر کو آن لائن اطلاع دے کر ایگزٹ ری انٹری ویزا خود نکال سکے گا ۔
ملازمت کا معاہدے ختم ہونے پر آجر کی منظوری کی بغیر اسے آن لائن مطلع کرکے سعودی عرب چھوڑ سکے گا جبکہ ملازمت کا معاہدہ مکمل ہوجانے پر آجر کی منظوری کے بغیر کسی اور کے یہاں ملازمت کر سکے گا۔

نیا قانون’نجی ڈرائیور، چوکیدار اور مزارع پر لاگو نہیں ہوگا:

سورس: اردو نیوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *